17 ستمبر 2013 - 19:30
جہادالنکاح کا شکار سعودی خاتون "عامرہ" کا انٹرویو

عامرہ نے سعودی مفتیوں سے سوال کرتے ہوئے پوچھا: کیا تم بتا سکتے ہو کہ کہ میرے اور تمہارے ہاتھوں جہاد النکاح کے لئے بھجوائی گئي اور درجنوں دہشت گردوں کی درندگی کا شکار ہونے والی خواتین کے پیٹ میں موجود بچوں کا باپ کون ہے؟ کیا یہ نسل حلال کی نسل ہے یا حرام کی؟ ہمیں اس کا جواب چاہئے۔

ابنا: عامرہ نے کہا میرے ساتھ جہاد النکاح کے نام پرجنسی درندگی کرتے ، سعودی مفتی العریفی کے فتوے کے بعد جہاد النکاح کے نام پردنیا بھر سے لائی گئی لڑکیوں کے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے، شام کے شہر حلب میں ہم کو جس فلیٹ میں رکھا گیا تھا وہ النصرہ فرنٹ کے ایک گروپ کے کمانڈر ابوعبید کا تھا، وہاں ہم 5 لڑکیاں تھیں اور اس فلیٹ میں 4 کمرے تھے وہاں ہر ایک گھنٹے بعد 10 سلفی وہابی آتے اور  جو ہم 5 لڑکیوں پر جہاد النکاح کے نام سے جنسی تشدد کرتے؛ نہ کوئی نکاح پڑھتا نہ کوئی دعا بس وہ آتے اور ہم میں سے ہر ایک لڑکی کو الگ کمرے میں لے جاتے اور اللہ اکبر کہنے کے بعد ہمارے ساتھ زیادتی کرتے۔ جب یہ لوگ زیادتی کرنے کے بعد چلا جاتے دس افراد کا دوسرا ٹولہ داخلہ ہوتا اور یہ لوگ بھی اسی قسم کی زیادتی کرکے چلے جاتے؛ جبکہ ہم وہاں بےبس تھے ہماری کوئی فریاد سننے والا نہیں تھا؛  بس ہم روتے رہتے تھے۔ عامرہ کا کہنا تھا: ہم شامی فوج کے شکرگزار ہیں جنہوں نے النصرہ فرنٹ کے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیا اور ان میں سے کچھ تو مارے گئے کچھ گرفتار ہوئے؛ ابو مریم بھی شامی فوج کی فائرنگ سے مارا گیا، ابوعبید کبھی ہم 5 لڑکیوں کے ساتھ دن میں کئی بار زیادتی کرتا تھا ۔ہم جب چلاتے یا شور مچاتے تو یہ ہم کو مارنے کی دھمکی دیتا، موت کے خوف سے ہم ڈرے سہمے  ان کی کی زیادتی کا شکار ہوتے رہے؛ ہم کو شام ہمارے مدرسے کے مفتی نے بھیجا تھا اور کہا تھا کہ آپ لوگ مجاہدین کی بیویاں ہونگی، مجاہدین کے صدقے آپ کو جنت ملے گی! ہم مدرسہ حفضہ میں پڑھتے تھے، مدرسہ کے شیخ کا نام ابو یوسف تھا ، جس نے مزید لڑکیوں کو شام میں جہاد النکاح کے لیے بھیجا ہے۔ جنہیں مختلف علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ وہابی مکتب کے ہاتھوں لٹی ہوئی عامرہ نے کہا: مجھے امید ہے ان مفتیوں اور مولویوں کے ساتھ بھی یہ دہشتگرد وہی سلوک کریں گے جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ عامرہ نے سعودی مفتیوں سے سوال کرتے ہوئے پوچھا: کیا تم بتا سکتے ہو کہ کہ میرے اور تمہارے ہاتھوں جہاد النکاح کے لئے بھجوائی گئي اور درجنوں دہشت گردوں کی درندگی کا شکار ہونے والی خواتین کے پیٹ میں موجود بچوں کا باپ کون ہے؟ کیا یہ نسل حلال کی نسل ہے یا حرام کی؟ ہمیں اس کا جواب چاہئے۔واضح رہے کہ جہاد النکاح نامی وہابی بدعت میں نکاح پڑھنا اور عدت رکھنا لازم نہیں ہے اور اس بدعت کے نتیجے میں ہونے والی اولاد کی قسمت کا فیصلہ بھی ہونا ممکن نہیں ہے۔ بس اتنا ہی معلوم ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر نیا اسلام بنانے کے نتائچ اس سے بہتر نہيں ہوسکتے اور خارجی افکار سے اسی قسم کا بدعتی مکتب جنم لے سکتا ہے جس نے دنیا بھر میں اسلامی کی اساس تک کو متنازعہ بنانے کی ٹھانی ہے۔ ......./169 ـ /٭۔٭